چین نے خلائی تاریخ میں نیا باب رقم کرلیا

چینی ماہرین نے خلائی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے امریکا اور روس جیسے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا۔

تفصیلات کے مطابق چین کا روبوٹک خلائی جہاز ’چینگ ای فور‘ نے گزشتہ روز چاند کے تاریک حصے میں کامیابی سے لینڈنگ کی اور کچھ تصاویر بھی بھیجیں۔

چین کے ماہرین تاریخی بات رقم کرنے پر بہت زیادہ خوش ہیں کیونکہ خلائی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ چاند کے ’ڈارک سرکل‘ میں کوئی بھی جہاز پہلی بار اترا ہو۔

رپورٹس کے مطابق چینک ای فور نے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 26 منٹ پر لینڈنگ کی جس کے بعد اُس نے کچھ تصاویر بھی بھیجیں جنہیں جاری کردیا گیا۔

ماہرین کے مطابق ماضی میں امریکا اور روس کے خلائی تحقیقاتی اداروں نے چاند کے اُس حصے پر مشنز بھیجے گئے جو زمین کے رخ پر ہیں جبکہ ’چینک ای فور‘ کو پچھلے تاریک حصے میں بھیجا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی معیاری وقت کے مطابق مشن نے رات ڈھائی بجے کے قریب قطب جنوبی آئیٹکن بیسن پر لینڈنگ کی، جدید آلات سے لیس جہاز ‘چینگ فور’ علاقے کی ارضیاتی خصوصیات جانچنے کے علاوہ حیاتیاتی تجربات بھی کرے گا۔

نیوہورائزن کی الٹی ماٹولی تک رسائی، ناسا کی تصدیق

دوسری جانب امریکی تحقیقاتی خلائی ادارے ناسا نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کا  2006 میں شروع کیے جانے والے مشن ’نیوہورائزن‘ نے نظام شمسی کی سرحد پر واقع ’الٹی ما ٹولی‘ تک رسائی حاصل کرلی۔ناسا کے مطابق ’ماہرین کو یکم جنوری کو مشن سے اہم ترین سگنل موصول ہوا جس سے یہ تصدیق ہوئی کہ خلا باز ’برفانی چٹان‘ کے قریب پہنچ گئے، یہ چٹان دراصل نظام شمسی کا سیارچہ ہے جو بہت دور واقع ہے‘۔ناسا کے مطابق الٹی ما ٹولی سیارچہ زمین سے چار ارب میل کی مسافت پر موجود ہے، اس طرح یہ مشن طویل مسافت طے کرنے میں کامیاب ہوا جو خلائی تاریخ کا انوکھا ریکارڈ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.