رواں سال کا پہلا سورج گرہن کل ہوگا

 رواں سال کا پہلا سورج گرہن کل بروز اتوار ہوگا جس کا نظارہ امریکا، مشرقی روس، چین، شمالی اور جنوبی کوریا سمیت جاپان کے مختلف شہروں میں کیا جاسکے گا۔

تفصیلات کے مطابق سال 2019 کا پہلا سورج گرہن 6 جنوری کو ہوگا جس کا مشاہدہ پاکستان میں نہیں کیا جاسکے گا۔ محمکہ موسمیات کے مطابق سورج کے جزوی گرہن مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 34 منٹ سے شروع ہوگا اور یہ گرہن 6 بج کر 41 منٹ کو اپنے عروج پر پہنچے گا۔

پاکستان میں ہونے والا جزوی سورج گرہن 8 بج کر 49 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا۔

بین الاقوامی ماہرین فلکیات کے مطابق سورج گرہن کا مکمل نظارہ شمال مشرقی ایشیا، شمالی پیسفک، روس، کوریا، تائی پے اور ٹوکیو سمیت دیگر ممالک میں کیا جاسکے گا۔

ماہرین فلکیات کے مطابق چاند کے سورج کے سامنے سے گزرنے کا منظر جاپان، جنوبی کوریا، شنگھائی اور روس کے مشرقی علاقوں میں واضح طور پر دیکھا جاسکے گا۔

روس میں مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 14 منٹ، جاپان میں 10 بج کر 05 منٹ، چین میں 8 بج کر 52 منٹ اور بھارت میں صبح 11 بجے سورج کو گرہن لگے گا۔

چاند گرہن کب ہوگا؟

ماہرین فلکیات کے مطابق رواں برس کا پہلا چاند گرہن 20 اور 21 جنوری کو ہوگا جو جنوبی اور شمالی امریکا، مغربی یورپ میں دیکھا جاسکے گا۔ رواں ماہ ’سپر بلڈ چاند گرہن‘ ہوگا یعنی چاند بالکل سرخ ہوجائے گا، اسی طرح کا نظارہ گزشتہ برس بھی دنیا میں دیکھا گیا تھا۔

سورج گرہن کب ہوتا ہے؟

سورج کو گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند اپنے مدار میں گردش کرتے ہوئے زمین اور سورج کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اس کی روشنی زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے لیکن چونکہ سورج کا فاصلہ زمین سے چاند کے فاصلے کے مقابلے میں چار سو گنا زیادہ ہے، اس لیے سورج چاند کے پیچھے مکمل یا جزوی طور پر چھپ جاتا ہے۔

سورج گرہن کے وقت کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں؟

سورج گرہن کے موقع پر لوگوں کو ہمیشہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا جاتا ہے اور روز دیا جاتا ہے کہ یہ منظر دیکھنے کے لیے خاص قسم کے چشمے، دوربینیں اور دوسرے آلات کا استعمال کریں۔

سیلفی لینے سے پرہیز

وہ افراد جو سورج گرہن کے دوران سیلفی لینا چاہتے ہیں وہ اس سے پرہیز کریں کیونکہ ماہرین امراض چشم کے مطابق سورج گرہن کے دوران سیلفی کھینچنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

سورج گرہن براہ راست دیکھنے سے پرہیز

سورج گرہن براہِ راست دیکھنے کی کوشش نہ کی جائے کیوں کہ اس سے نکلنے والی شعاعیں آنکھوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.