بدلتے رجحانات پر نظر رکھنے کے لیے میڈیا یونیورسٹی بنائیں گے: فواد چوہدری

 وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہمیں ریاست اور حکومت پر اعتماد بحال کروانا ہے، مستقبل کے بدلتے رجحانات پر نظر رکھنی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ہم میڈیا یونیورسٹی بنانے جا رہے ہیں۔ مستقبل میں پرنٹ میڈیا کی بقا ممکن نظر نہیں آ رہی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دور میں ہتھیار کے بجائے آئیڈیاز کی اہمیت ہوگی، مستقبل میں پرنٹ میڈیا کی بقا ممکن نظر نہیں آ رہی، انفارمیشن گروپ کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا تیزی سے ترقی کرتا جا رہا ہے، مستقبل میں سنسر شپ حکومت کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ ’ففتھ جنریشن وار کیا ہے؟ آئیڈیاز کی جنگ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس دہندہ کا پیسہ ایک حد سے زیادہ نہیں دے سکتی، ماضی میں حکومت کے اشتہاروں کو استعمال کیا گیا۔ بسنت میں معیشت کا پہلو بھی ہوتا ہے، کمپنیاں اپنا پیسہ لگاتی ہیں۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ باہر ممالک میں کیا اسٹریٹ کرائم پاکستان سے کم ہیں؟ میڈیا کے ساتھ ہماری معیشت نقصان اٹھاتی رہے گی، ہمیں اطلاعات میں اپنے طور طریقے 100 فیصد تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریڈیو اور پاکستان ٹی وی کی گنجائش بہت کم ہے، مقابلہ نہیں کر سکتے۔ 1960 میں ریڈیو کے ٹرانسمیٹر ہم خود بناتے تھے۔ اب جو بھی چیز ہوتی ہے وہ باہر سے لاتے ہیں اور لگا دیتے ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عوام اور ہمارا جو ٹاسک ہے وہ یہ کہ ریاست کا بیانیہ کیسے آگے بڑھانا ہے، ہمیں ریاست اور حکومت پر اعتماد بحال کروانا ہے، مستقبل کے بدلتے رجحانات پر نظر رکھنی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ہم میڈیا یونیورسٹی بنانے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ہم ماڈرن طریقوں کو نہیں اپنائیں گے، پیچھے رہیں گے۔ ہماری بیورو کریسی جدید ٹیکنالوجی میں پیچھے ہے۔ ’ہم ٹیکنالوجی کے حوالے سے بیورو کریسی میں تبدیلیاں لائیں گے‘۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.