انٹل کے کیمرے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے خطرے سے دوچار جنگلی حیات کا حیات کا تحفظ کریں گے

دنیا بھر میں جنگلی حیات کو شکاریوں سے بچانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا  رہا ہے۔ تاہم موجودہ ٹیکنالوجی سے شکاریوں کو محدود طور  اُس وقت مانیٹر کیا جا تا ہےجب وہ شکار میں مصروف ہوں۔ یعنی جب تک محافظ شکاریوں تک پہنچتے ہیں، شکاری اچھا خاصا نقصان کر چکے ہوتے ہیں۔ ایک غیر تجارتی گروپ ریزالو(Resolve) نے اس سلسلے میں کچھ  بہتر اقدامات کرنے کا سوچا ہے۔اس گروپ نے اپنے  ٹریل گارڈ(TrailGuard) کیمرہ کا نیا ورژن جاری کیا ہے جو شکاریوں کا جانوروں کو  نقصان پہنچانے سے پہلے ہی پتا چلائے گا۔ اس کیمرے میں انٹل کا کمپیوٹر وژن پراسیسر(Movidius Myriad 2) استعمال کیا گیا ہے، جو جانور، انسان یا گاڑیوں کی رئیل ٹائم  مانیٹرنگ کر سکتا ہے۔ یہ گاڑیوں یا شکاریوں کے نظر آتے ہی انتظامیہ کو خبردار کرتا ہے ۔اس طرح محافظ فوری طور پر شکاریوں کے خلاف کاروائی کر سکتے ہیں۔یہ ٹیکنالوجی موجودہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی سے زیادہ موثر اور سستی ہے۔ پہلے سے موجود کیمرے صرف حرکت کو محسوس کر کےخطرے کا الرٹ جاری کر دیتے ہیں۔ ان الرٹس میں سے زیادہ تر غلط ثابت ہوتے ہیں۔ زیادہ اور غلط الرٹس کا اثر کیمرے کی بیٹری لائف پر بھی پڑتا ہے اور یہ صرف ایک مہینے ہی چل پاتے ہیں۔ ٹریل گارڈ کیمرے صرف اس وقت الرٹ جاری کرتے ہیں، جب کیمرے کے فریم میں کوئی انسان نظر آئے۔محدود اور درست الرٹس کی وجہ سے کیمرے کی بیٹری لائف بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔ یہ کیمرے ایک دفعہ چارج ہو کر ڈیڑھ سال تک چل سکتے ہیں۔
ٹریل گارڈ کیمرہ سیٹ اپ کا سائز صرف ایک پنسل جتنا ہوتا ہے اس لیے شکاری اسے آسانی سے تلاش نہیں کر سکتے۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے یہ زیادہ بہتر نتائج دیتے ہیں۔
ریزالو گروپ اس وقت نیشنل جیوگرافک سوسائٹی اور لیونارڈو ڈائی کیپریو فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر اس سال 100 افریقی پارکس کو یہ کیمرے فراہم کرے گا۔ اس کے بعد انہیں جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی امریکا کے جانوروں کے تحفظ کے مراکز میں فراہم کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.